تھیلیسیمیا سے آگاہی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

تھیلیسیمیا سے آگاہی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

5/8/2018 11:37:43 AM :شائع کردہ

امریکہ: ہر سال آٹھ مئی کو دنیا بھر میں تھیلیسیمیا سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے تھیلیسیمیا کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس مرض کے حوالے سے صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی خون میں شامل سرخ خلیوں کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔ جینیاتی اعتبار سےتھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں جنہیں الفا تھیلیسیمیا اور بی ٹا تھیلیسیمیا کہتے ہیں۔ نارمل انسانوں کے خون کے ہیموگلوبن میں دو الفا اوردو بی ٹا زنجیریں ہوتی ہیں۔ گلوبن کی الفا زنجیر بنانے کے ذمہ دار دونوں جین کروموزوم نمبر 16 پر ہوتے ہیں جبکہ بی ٹا زنجیر بنانے کا ذمہ دار واحد جین ایچ بی بی کروموزوم نمبر 11 پر ہوتا ہے۔ الفا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی الفا زنجیر کم بنتی ہے جبکہ بی ٹا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی بیٹا زنجیر کم بنتی ہے۔ اس طرح خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں۔ شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائینر کہلاتی ہے۔ درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا کہلاتی ہے۔ ایک طرح کا تھیلیسیمیا کبھی بھی دوسری طرح کے تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا یعنی الفا تھیلیسیمیا کبھی بھی بی ٹا تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بی ٹا کبھی الفا میں۔ اسی طرح نہ تھیلیسیمیا مائینر کبھی تھیلیسیمیا میجربن سکتا ہے اور نہ ہی میجر کبھی مائینر بن سکتا ہے۔ اسی طرح ان کے مرض کی شدت میں اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔ تھیلیسیمیا میجر کسی کو تھیلیسیمیا میجر صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اسکے دونوں والدین کسی نہ کسی طرح کے تھیلیسیمیا کے حامل ہوں۔ تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں میں خون اتنا کم بنتا ہے کہ انہیں ہر دو سے چار ہفتے بعد خون کی بوتل لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے بچے پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انکی بقیہ زندگی بلڈ بینک کی محتاج ہوتی ہے۔ کمزور اور بیمار چہرے والے یہ بچےکھیل کود اور تعلیم دونوں میدانوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور معاشرے میں صحیح مقام نہ پانے کی وجہ سے خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔ بار بار خون لگانے کے اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر والدین کو معاشی طور پر انتہائی خستہ کر دیتے ہیں جس کے بعد نامناسب علاج کی وجہ سے ان بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بہترین علاج کے باوجود یہ مریض 30 سال سے 40 سال تک ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے مریضوں کی عمر لگ بھگ دس سال ہوتی ہے۔ اگر ایسے بالغ مریض کسی نارمل انسان سے شادی کر لیں تو انکے سارے بچے لازماً تھیلیسیمیا مائینر کے حامل ہوتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائینر تھیلیسیمیا مائینر کی وجہ سے مریض کو کوئی تکلیف یا شکایت نہیں ہوتی نہ اسکی زندگی پر کوئ خاص اثر پڑتا ہے۔علامات و شکایات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی تشخیص صرف لیبارٹری کے ٹیسٹ سے ہی ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگ نارمل زندگی گزارتے ہیں مگر یہ لوگ تھیلیسیمیا اپنے بچوں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا بیشتر افراد اپنے جین کے نقص سے قطعاً لاعلم ہوتے ہیں اور جسمانی ، ذہنی اور جنسی لحاظ سے عام لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور نارمل انسانوں جتنی ہی عمر پاتے ہیں۔ تھیلیسیمیا مائینر میں مبتلا خواتین جب حاملہ ہوتی ہیں تو ان میں خون کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ علاج قومی ادارہ برائے امراض خون (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز) نے پہلی بار ایسی دوا پر تحقیق کامیابی سے مکمل کرلی جس کے استعمال سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے جسم میں خون بننے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی نگرانی میں ڈاکٹرثاقب انصاری کی تحقیق میں یہ انکشاف کیاگیا ہے کہ ہائیڈروک سی یوریا دوا کے استعمال سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے جسم میں خون بننے کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا اس سے قبل تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کو زندگی بچانے کیلیے ہر ماہ 2 بار انتقال خون کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا، تحقیق کے بعد نئی دوا ملک بھر میں3 ہزار تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں پراستعمال کی گئی۔