شام: جنگ زدہ علاقے مشرقی غوطہ میں امدادی سامان پہنچ گیا

شام: جنگ زدہ علاقے مشرقی غوطہ میں امدادی سامان پہنچ گیا

3/11/2018 11:07:17 AM :شائع کردہ

غوطہ، شام: شام میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں محصور شہریوں کو کھانے پینے اور علاج کا امدادی سامان پہنچا دیا گیا۔ حکومتی فورسز کی جانب سے محصور شہریوں کو امدادی سامان پہنچانے کے ایک روز بعد بھی حملے جاری رہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق روس کی حمایت یافتہ شامی فورسز کی جانب سے 18 فروری کو مشرقی غوطہ میں زمینی و فضائی بمباری کا آغاز کیا گیا، جس میں اب تک 950 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے دوران ایم ایس ایف کے بھی تقریباً 15 کے قریب طبی یونٹس اور شیلٹرز تباہ ہوئے۔ گزشتہ روز عالمی ادارے ریڈ کراس کے 13 امدادی ٹرک مشرقی غوطہ کے متاثرہ علاقے پہنچے، تاہم اس دوران شیلنگ اور بمباری بھی جاری رہی۔ ان ٹرکوں میں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ادویات بھی شامل تھیں، بمباری کے باوجود امدادی کارکنوں نےکئی روز سے بھوکے شامی شہریوں میں خوراک تقسیم کی۔ مشرقی غوطہ میں 4 لاکھ افراد 2013 سے حکومت کے زیر تسلط رہ رہے ہیں، جسے لاتعداد مسلح گروپوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ حملوں کے بعد سے حکومتی فورسز علاقے کے نصف سے زائد حصے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرچکی ہے۔ علاقے میں شدت پسند گروپ جیش السلام، حیات تحریر الشم (ایچ ٹی ایس) کے مسلح جنگجو بھی موجود ہیں۔ شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک بس کی ویڈیو نشر کی جس میں 13 ’جنگجو‘ اور ان کے اہلخانہ کو الوافیدین چیک پوائنٹس کے ذریعے محصور علاقے سے باہر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ کے بیان میں کہا گیا کہ کشیدگی کا تمام خمیازہ معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور جِسرین میں فضائی حملوں میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔ دو ہفتوں کے دوران شام میں گولہ باری کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 1 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔