سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کی تقرری سے متعلق کمیٹی سے مریم اورنگزیب کو نکال دیا

سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کی تقرری سے متعلق کمیٹی سے مریم اورنگزیب کو نکال دیا

4/16/2018 11:02:58 PM :شائع کردہ

اسلام آباد :سپریم کورٹ نے میڈیا کمیشن سے متعلق کیس کے دوران چیئرمین پیمرا کی تقرری کیلئے سرچ کمیٹی میں تبدیلی کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کو کمیٹی سے نکال دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نےپیمراچیئرمین کےانتخاب کےلیےسرچ کمیٹی میں تبدیلی کرتے ہوئے وزيراطلاعات مریم اورنگزیب کوکمیٹی سےنکال دیا۔ اور انکی جگہ سیکریٹری اطلاعات کوشامل کرنے کا حکم دیدیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے بتایا کہ حکومت نے الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیرمین کے انتخاب کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی جس میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کوشامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لئے 3 ممبران کے پینل کا انتخاب کرے گا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی، ان کے لیے کمیٹی کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ پیمرا قانون میں ترمیم کے حوالے سے کیا کیا گیا؟،جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ پیمرا قانون میں کیا غلط خبروں سے متعلق کوئی شق ہے؟، جعلی خبریں بہت اہم مسئلہ ہیں، ملائیشیا میں جعلی خبر کو فوجداری جرم بنادیا گیا ہے۔ رانا وقار نے کہا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کرنا نہایت ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت میں بھارتی وزیر ریلوے لالو پرشاد کا نام لیا، میری معلومات غلط تھی، لالو پرشاد لاء گریجویٹ ہیں، میری اس بات پر طلعت حسین نے آسمان سر پر اٹھالیا، کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے، کسی نے فیصل رضاعابدی کا انٹرویو دیکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی شیر کو میں نہیں جانتا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصل شیر ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں، نااہلی کیس پر فیصلے کے بعد ہی نعرے لگے، عدلیہ کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے، ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں، لوگ خواتین کو ڈھال کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی توخود سامنے آتے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیا کی آزادی عدلیہ کی آزادی سے مشروط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا۔ واضح رہے کہ رواں ماہ 7اپریل کو چیف جسٹس نے ریلوے میں مبینہ کرپشن کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ بھارت کا وزیر ریلوے لالو پرشاد ان پڑھ آدمی تھا لیکن اس ادارےکو منافع بخش بنایا اور آج لالو پرشاد کی تھیوری کو ہاورڈ یونیورسٹی میں پڑھایا جارہا ہے۔