سپریم کورٹ نے موبائل ریچارج پر ٹیکس معطل کرنے کا حکم دیدیا

سپریم کورٹ نے موبائل ریچارج پر ٹیکس معطل کرنے کا حکم دیدیا

6/11/2018 3:10:27 PM :شائع کردہ

لاہور: سپریم کورٹ نے موبائل کارڈ پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر )اور موبائل کمپنیز کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز کو معطل کرتے ہوئے ان احکامات پر عمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دے دی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے موبائل بیلنس پر اضافی ٹیکس کی وصولی پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے کہ ریڑھی بان سے کیسے ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے، جس کا موبائل فون کا استعمال مقررہ حد سے زیادہ ہے، اس سے ٹیکس وصول کریں۔ عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ایک بندہ اگر ٹیکس نیٹ میں نہیں آتا تو اس سے کیسے ٹیکس وصول کرسکتے ہیں، 100 روپے کے کارڈ لوڈ کرنے پر 64 روپے 38 پیسے وصول ہوتے ہیں، جو غیر قانونی ہے۔ دوران سماعت عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ یہاں پر لوگوں سے لوٹ مار کی جارہی ہے، لہٰذا موبائل فونز کارڈ پر ٹیکس وصولی کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے۔ بعد ازاں عدالت نے موبائل کارڈ پر ایف بی آر اور موبائل کمپنیز کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز کو معطل کرتے ہوئے ان احکامات پر عمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دے دی۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 3 مئی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران موبائل فون بیلنس پر اضافی کٹوتی کے معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ 8 مئی کو اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ٹیکس کس قانون کے تحت وصول کیا جارہا ہے اور حکم دیا تھا کہ مختلف ممالک میں کال ریٹ کا تقابلی جائزہ چارٹ پیش کیا جائے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ 100 روپے کے موبائل کارڈ پر موبائل کمپنیاں 19.5 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرتی ہیں، دس فیصد سروس چارجز اور 12.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لیا جاتا ہے۔